سری نگر،26؍مارچ (ایس او نیوز؍یو این آئی) وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے باعث پہلی موت درج کی گئی ہے جس کی عمر 65 برس بتائی جارہی ہے، سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں واقع اسپتال برائے امراض سینہ میں زیر علاج تھے۔ مہلوک شخص کورونا وائرس کے علاوہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کا شکار تھے۔ اس موت کے ساتھ ہی ہندوستان میں کورونا سے ہوئی اموات کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدر پورہ کے رہنے والے مہلوک شخص تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ تھے اور انہوں نے انڈونیشیا اور ملائشیا میں ہونے والے تبلییغی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ وہ وہاں سے واپسی پر نئی دہلی، اترپردیش اور جموں میں ٹھہرے تھے۔ شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں جن چار افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت آئے ہیں، ان کے مہلوک شخص کے ساتھ قریبی روابط تھے اور پانچوں نے ایک ساتھ مذہبی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔
ایک مقامی خبررساں ایجنسی نے ڈاکٹروں کے حوالے سے کہا ہے کہ 'کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت جمعرات کی صبح واقع ہوئی۔ ان کو دل کا دورہ پڑا اور ہماری سخت کوششوں کے باوجود وہ دم توڑ گئے۔ وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کا بھی شکار تھے'۔
دریں اثنا جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے وادی میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'بری خبر، کورونا وائرس سے پہلی موت، حیدر پورہ سری نگر سے تعلق رکھنے والا 65 سالہ شہری چل بسا۔ اس کے رابطے میں آنے والے چار لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت پائے گئے'۔
جموں وکشمیر میں اب کورونا وائرس کے مثبت کیسس کی تعداد 10 ہے جن میں سے تین کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے وادی میں جمعرات کو مسلسل آٹھویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن رہا جس کے باعث ہر سو سناٹا اور اضطرابی ماحول چھایا رہا۔ سری نگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں نافذ ہیں اور سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار لوگوں کو سڑکوں پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔